حدیث نمبر: 7668
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنِ اكْتَوَى أَوِ اسْتَرْقَى فَقَدْ بَرِئَ مِنَ التَّوَكُّلِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے داغ لگوایا یا دم کروایا وہ توکل سے بری ہو گیا۔

وضاحت:
فوائد: … علاج معالجہ کے جائز اسباب استعمال کرنا توکل کے منافی نہیں ہے اور دغوانا اور دم کروانا علاج کے جائز اسباب میں سے ہے، دراصل اس حدیث میں توکل کی انتہائی اعلی قسم کو بیان کیا جا رہا ہے، جس میں کسی بیماری میں مبتلا ہونے والا اللہ تعالی کے فیصلے پر راضی ہو کر صبر کرتا ہے اور کہتا ہے کہ جس نے بیماری لگائی ہے، وہی اس کو دور کرنے پر بھی قادر ہے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ سَبْعُوْنَ الفًا بِغَیْرِ حِسَابٍ، وَہُمُ الَّذِیْنَ لَا یَکْتَوُوْنَ وَلَا یَسْتَرْقُوْنَ ولَا یَتَطَیَّرُوْنَ وَعَلٰی رَبِّہِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ۔)) یعنی: (میری امت کے) ستر ہزار آدمی بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے، (ان کی صفات یہ ہیں کہ وہ اپنے جسم کو) داغتے نہیں ہیں اور نہ دم کرواتے ہیں اور نہ کسی چیز سے برا شگون لیتے ہیں اور اپنے رب پر ہی بھروسہ کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7668
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن، أخرجه ابن ماجه: 3489 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18180 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18364»