الفتح الربانی
كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)— طب، دم، نظر بد، بیماری کا متعدی ہونا ، بد فال لینا اور نیک فال لینا
بَابُ مَا جَاءَ فِي جَوَازِ التَّدَاوِى بِالْكَى وَكَرَاهَةِ النَّبِي ﷺ لَهُ باب: داغ لگوا کر علاج کروانا جائز ہے، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو ناپسند کیا ہے
حدیث نمبر: 7667
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْكَيِّ فَاكْتَوَيْنَا فَمَا أَفْلَحْنَا وَلَا أَنْجَحْنَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے داغ لگانے سے منع کیا ، لیکن ہم نے داغ لگوائے، پس ہم نہ کامیاب ہوئے اور نہ ہم نے نجات پائی۔
وضاحت:
فوائد: … داغنا فائدہ دیتا ہے، ممکن ہے یہ ایسے زخم ہوں، جو داغنے سے بھی ٹھیک نہ ہوتے ہوں۔