حدیث نمبر: 7666
عَنِ ابْنِ شِهَابٍ يُحَدِّثُ أَنَّ أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ أَحَدَ النُّقَبَاءِ يَوْمَ الْعَقَبَةِ أَنَّهُ أَخَذَتْهُ الشَّوْكَةُ فَجَاءَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ فَقَالَ بِئْسَ الْمَيِّتُ لَيَهُودُ مَرَّتَيْنِ سَيَقُولُونَ لَوْلَا دَفَعَ عَنْ صَاحِبِهِ وَلَا أَمْلِكُ لَهُ ضَرًّا وَلَا نَفْعًا وَلَأَتَمَحَّلَنَّ لَهُ فَأَمَرَ بِهِ وَكُوِيَ بِخَطَّيْنِ فَوْقَ رَأْسِهِ فَمَاتَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ ، جو عقبہ والے دن کے نقیبوں میں سے ایک تھے، سے مروی ہے کہ ان کے چہرے اور جسم پر سرخی چڑھ آئی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی عیادت کے لئے تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہودیوں کی میت بہت بری ہوتی ہے، یہ بات دو مرتبہ فرمائی،عنقریب یہ یہودی کہیں گے کہ یہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ساتھی سے تکلیف دور کیوں نہ کرسکے، لیکن سن لو میں اس کے نقصان اور نفع کا اختیار نہیں رکھتا، تاہم میں اس تکلیف کو حتی الامکان دور کرنے کی کوشش ضرور کروں گا۔ پھر آپ نے ان کے لئے حکم دیا تو ان کے سر کے اوپر دو لکیروں کی صورت میں داغ لگایا گیا، لیکن وہ شفایاب نہ ہوسکے اور وفات پا گئے۔

وضاحت:
فوائد: … بہرحال نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مختار کل نہ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہ اپنے کسی صحابی رضی اللہ عنہ کی موت کی مدت بڑھا سکتے تھے اور اپنی مرضی سے کسی کو شفا دے سکتے تھے، یہ اللہ تعالی کی صفات ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7666
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «ابو امامة بن سھل بن حنيف، وان كانت له رؤية، لم يسمع من النبي ، وزمعة بن صالح توبع، وباقي رجال الاسناد ثقات رجال الشيخين، أخرجه عبد الرزاق: 19515، والطبراني في الكبير : 5584، والحاكم: 4/ 214، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17238 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17370»