الفتح الربانی
كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)— طب، دم، نظر بد، بیماری کا متعدی ہونا ، بد فال لینا اور نیک فال لینا
بَابُ مَا جَاءَ فِي جَوَازِ التَّدَاوِى بِالْكَى وَكَرَاهَةِ النَّبِي ﷺ لَهُ باب: داغ لگوا کر علاج کروانا جائز ہے، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو ناپسند کیا ہے
حدیث نمبر: 7663
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ رُمِيَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي أَكْحَلِهِ فَحَسَمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ بِمِشْقَصٍ ثُمَّ وَرِمَتْ فَحَسَمَهُ الثَّانِيَةَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے ہی روایت ہے کہ سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے بازو کی رگ میں تیر لگا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے تیر کے پھل کے ساتھ ان کو داغا، پھر جب اس پر ورم آ گیا تو آپ نے دوسری بار داغا۔