الفتح الربانی
كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)— طب، دم، نظر بد، بیماری کا متعدی ہونا ، بد فال لینا اور نیک فال لینا
بَابُ مَا جَاءَ فِي جَوَازِ التَّدَاوِى بِالْكَى وَكَرَاهَةِ النَّبِي ﷺ لَهُ باب: داغ لگوا کر علاج کروانا جائز ہے، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو ناپسند کیا ہے
حدیث نمبر: 7662
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ طَبِيبًا فَقَطَعَ لَهُ عِرْقًا ثُمَّ كَوَاهُ عَلَيْهِ وَفِي رِوَايَةٍ فَكَوَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی طرف ایک معالج کو بھیجا، جس نے ان کی رگ کو کاٹ کر اس کو داغ دیا،ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے داغا تھا۔