الفتح الربانی
كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)— طب، دم، نظر بد، بیماری کا متعدی ہونا ، بد فال لینا اور نیک فال لینا
بَابُ مَا جَاءَ فِي جَوَازِ التَّدَاوِى بِالْكَى وَكَرَاهَةِ النَّبِي ﷺ لَهُ باب: داغ لگوا کر علاج کروانا جائز ہے، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو ناپسند کیا ہے
حدیث نمبر: 7660
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَوَانِي أَبُو طَلْحَةَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا فَمَا نُهِيتُ عَنْهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے داغ کر میرا علاج کیا، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے درمیان موجود تھے، پس مجھے اس سے منع نہیں کیا گیا۔