الفتح الربانی
أبواب الوضوء— وضو کے ابواب
بَابٌ فِيمَا جَاءَ فِي الشَّكِّ فِي الْحَدَثِ باب: بے وضگی کا شک پڑ جانے کا بیان
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا كَانَ فِي الصَّلَاةِ جَاءَهُ الشَّيْطَانُ فَأَبَسَّ بِهِ كَمَا يَبُسُّ الرَّجُلُ بِدَابَّتِهِ فَإِذَا سَكَنَ لَهُ أَضْرَطَ بَيْنَ إِلْيَتَيْهِ لِيَفْتِنَهُ عَنْ صَلَاتِهِ، فَإِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ مِنْ ذَلِكَ فَلَا يَنْصَرِفْ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ يَجِدَ رِيحًا لَا يَشُكُّ فِيهِ))سیدنا ابو ہریرہؓ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی نماز ادا کر رہا ہوتا ہے تو شیطان اس کو وسوسے میں ڈالنے کے لیے اس کے پاس آ کر وہ اس طرح مختلف حیلے استعمال کرتا ہے، جیسے آدمی اپنے جانور کو روکنے کے لیے بِس بِس کرتا ہے، جب وہ بندہ اس (شیطان سے) مانوس ہو جاتا ہے تو وہ اس کے سرینوں میں گوزمارتا ہے، تاکہ وہ اس کو نماز کے سلسلے میں فتنے میں ڈال دے۔ (تو یاد رکھو کہ) جب تم میں کوئی آدمی اس چیز کو محسوس کرے تو وہ اس وقت تک (وضو کے لیے) نہ جائے، جب تک واضح طور پر آواز نہ سن لے یا بو نہ پا لے۔