الفتح الربانی
كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)— طب، دم، نظر بد، بیماری کا متعدی ہونا ، بد فال لینا اور نیک فال لینا
بَابُ مَا جَاءَ فِي جَوَازِ التَّدَاوِى بِالْكَى وَكَرَاهَةِ النَّبِي ﷺ لَهُ باب: داغ لگوا کر علاج کروانا جائز ہے، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو ناپسند کیا ہے
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي رَجُلٍ نَسْتَأْذِنُهُ أَنْ نَكْوِيَهُ فَسَكَتَ ثُمَّ سَأَلْنَاهُ مَرَّةً أُخْرَى فَسَكَتَ ثُمَّ سَأَلْنَاهُ الثَّالِثَةَ فَقَالَ ارْضِفُوهُ إِنْ شِئْتُمْ كَأَنَّهُ غَضْبَانُ۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آپ کے پؤں کی بیماری کی وجہ سے تیمار داری کے لئے حاضر ہوئے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت طلب کی کہ ہم داغ لگا دیں، جواباً آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے، ہم نے پھر سوال کیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے، جب ہم نے تیسری مرتبہ سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم چاہتے ہو تو گرم پتھر لگا لو۔ گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غصے میں تھے۔