الفتح الربانی
كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)— طب، دم، نظر بد، بیماری کا متعدی ہونا ، بد فال لینا اور نیک فال لینا
بَابُ مَا جَاءَ فِي جَوَازِ التَّدَاوِى بِالْكَى وَكَرَاهَةِ النَّبِي ﷺ لَهُ باب: داغ لگوا کر علاج کروانا جائز ہے، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو ناپسند کیا ہے
حدیث نمبر: 7658
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ الشِّفَاءُ فِي ثَلَاثَةٍ شَرْبَةِ عَسَلٍ وَشَرْطَةِ مِحْجَمٍ وَكَيَّةِ نَارٍ وَأَنْهَى أُمَّتِي عَنِ الْكَيِّترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہماسے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: تین چیزوں میں شفاء ہے، شہد پینے میں، سینگی لگوانے میں اور آگ کا داغ لگوانے میں، البتہ میں اپنی امت کو داغ لگانے سے منع کرتا ہوں۔
وضاحت:
فوائد: … ظاہری طور پر یہ روایت موقوف ہے، لیکن آخری جملہ دلالت کرتا ہے کہ یہ مرفوع روایت ہے، بہرحال صحیح بخاری اور سنن ابن ماجہ میں یہ پوری روایت مرفوع ثابت ہے۔