الفتح الربانی
كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)— طب، دم، نظر بد، بیماری کا متعدی ہونا ، بد فال لینا اور نیک فال لینا
بَابُ مَا جَاءَ فِي جَوَازِ التَّدَاوِى بِالْكَى وَكَرَاهَةِ النَّبِي ﷺ لَهُ باب: داغ لگوا کر علاج کروانا جائز ہے، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو ناپسند کیا ہے
حدیث نمبر: 7657
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثٌ إِنْ كَانَ فِي شَيْءٍ شِفَاءٌ فَفِي شَرْطَةِ مِحْجَمٍ أَوْ شَرْبَةِ عَسَلٍ أَوْ كَيَّةٍ تُصِيبُ أَلَمًا وَأَنَا أَكْرَهُ الْكَيَّ وَلَا أُحِبُّهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین چیزیں ہیں، اگر کسی چیز میں شفا ہے، (تو ان تین میں ہے) یعنی سینگی لگانے میں ہے یا شہد پینے میں یا داغ لگوانے میں جو تکلیف کے علاج کے لئے مناسب ہو اور میں داغ کو ناپسند کرتا ہوں۔