حدیث نمبر: 7652
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا الْحَجَّامَ فَأَتَاهُ بِقُرُونٍ فَأَلْزَمَهُ إِيَّاهَا قَالَ عَفَّانُ مَرَّةً بِقَرْنٍ ثُمَّ شَرَطَهُ بِشَفْرَةٍ فَدَخَلَ أَعْرَابِيٌّ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ أَحَدِ بَنِي جَذِيمَةَ فَلَمَّا رَآهُ يَحْتَجِمُ وَلَا عَهْدَ لَهُ بِالْحِجَامَةِ وَلَا يَعْرِفُهَا قَالَ مَا هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَامَ تَدَعُ هَذَا يَقْطَعُ جِلْدَكَ قَالَ هَذَا الْحَجْمُ قَالَ وَمَا الْحَجْمُ قَالَ هَذَا مِنْ خَيْرِ مَا تَدَاوَى بِهِ النَّاسُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوا، آپ نے سینگی لگانے والے کو بلوایا، وہ سینگی لگانے کا آلہ لے کر آ گیا اور اسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے چمٹا دیا اورچھری سے آپ کے جسد اطہر پر بچھنے لگائے، اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک دیہاتی آ گیا، جو بنو جذیمہ کی شاخ بنو فرازہ سے تھا، جب اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سینگی لگواتے دیکھا تو کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! آپ نے اسے کیا چھوڑ رکھا ہے کہ یہ آپ کی جلد کاٹ رہا ہے؟ دراصل اسے معلوم نہیں تھا کہ سینگی کیا چیز ہے نہ اس نے کبھی لگتے دیکھی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ سینگی ہے۔ اس نے کہا: سینگی کیا ہوتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگ جو علاج کرواتے ہیں، یہ سینگی ان کے بہترین علاج میں سے ہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7652
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه البزار: 1216، والطبراني في الكبير : 6785، والحاكم: 4/ 208، والنسائي في الكبري : 7596 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20096 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20356»