الفتح الربانی
كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)— طب، دم، نظر بد، بیماری کا متعدی ہونا ، بد فال لینا اور نیک فال لینا
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحُمَّى وَعَلاجها باب: بخار اور اس کے علاج کا بیان
عَنْ ثَوْبَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَصَابَ أَحَدَكُمُ الْحُمَّى وَإِنَّ الْحُمَّى قِطْعَةٌ مِنَ النَّارِ فَلْيُطْفِئْهَا عَنْهُ بِالْمَاءِ الْبَارِدِ وَلْيَسْتَقْبِلْ نَهَرًا جَارِيًا يَسْتَقْبِلُ جَرْيَةَ الْمَاءِ فَيَقُولُ بِسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ اشْفِ عَبْدَكَ وَصَدِّقْ رَسُولَكَ بَعْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ فَيَغْتَمِسُ فِيهِ ثَلَاثَ غَمَسَاتٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَإِنْ لَمْ يَبْرَأْ فِي ثَلَاثٍ فَخَمْسٍ فَإِنْ لَمْ يَبْرَأْ فِي خَمْسٍ فَسَبْعٍ فَإِنْ لَمْ يَبْرَأْ فِي سَبْعٍ فَتِسْعٍ فَإِنَّهُ لَا يَكَادُ يُجَاوِزُ التِّسْعَ بِإِذْنِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ۔ مولائے رسول سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو بخار ہو جائے تو وہ اسے ٹھنڈے پانی کے ساتھ بجھائے، کیونکہ یہ دوزخ کی آگ کا ٹکڑا ہے اورجاری نہر میں چلا جائے اور پانی کے چلاؤ کی طرف رخ کرے اور یہ پڑھی: بِسْمِ اللّٰہِ اللّٰھُمَّ اشْفِ عَبْدَکَ وَصَدِّقْ رَسُولَکَ۔ (اللہ کے نام کے ساتھ، اے اللہ! اپنے اس بندے کو شفا دے اور اپنے رسول کی تصدیق فرما) نماز فجر کے بعد اور طلوع آفتاب سے پہلے اس طرح نہائے اور اس میں تین غوطے لگائے، تین دن یہی عمل دہرائے، اگر تندرست نہ ہو تو پانچ دن ایسا کر لے اور اگر پانچ دن میں صحت یاب نہ ہو تو سات دن ایسا کرے اور اگر اتنے دنوں میں بھی صحت نہ پائے تو نو دن ایسا کرے، اللہ کے حکم سے بخار نو دنوں سے تجاوز نہیں کرے گا۔