الفتح الربانی
كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)— طب، دم، نظر بد، بیماری کا متعدی ہونا ، بد فال لینا اور نیک فال لینا
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحُمَّى وَعَلاجها باب: بخار اور اس کے علاج کا بیان
حدیث نمبر: 7640
عَنْ أَسْمَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا كَانَتْ إِذَا أُتِيَتْ بِالْمَرْأَةِ لِتَدْعُوَ لَهَا صَبَّتِ الْمَاءَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ جَيْبِهَا وَقَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنَا أَنْ نُبَرِّدَهَا بِالْمَاءِ وَقَالَ إِنَّهَا مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب ان کے پاس کوئی عورت لائی جاتی تاکہ اس کے لیے بخار سے نجات کی دعا کریں، تو وہ اس عورت کے دامن میں پانی ڈالتی اور کہتی تھیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم بخار کو پانی کے ساتھ ٹھنڈا کیا کریں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک یہ دوزخ کی بھاپ سے ہے۔