حدیث نمبر: 764
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: أَتَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنِّي أُسْتَحِيضْتُ، فَقَالَ: ((دَعِي الصَّلَاةَ أَيَّامَ حَيْضَتِكِ ثُمَّ اغْتَسِلِي وَتَوَضَّئِي عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَإِنْ قَطَرَ عَلَى الْحَصِيرِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں کہ سیدہ فاطمہ بنت ابی حبیشؓ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئیں اور کہا: مجھے استحاضہ کا خون آتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اپنے حیض کے دنوں میں نماز چھوڑ دیا کر، پھر غسل کر کے نماز پڑھا کر اور ہر نماز کے لیے وضو کیا کر، اگرچہ اس خون کے قطرے چٹائی پرگرتے رہیں۔

وضاحت:
فوائد: … جس مرد اور عورت کو مستقل طور پر کوئی ایسی بیماری ہوجس سے وضو ٹوٹ جاتا ہو، مثلا پیشاب کے قطروں کا مسلسل آتے رہنا، گیس کا مسلسل خارج ہوتے رہنا، پیشاب اور پائخانے کے راستہ سے خون کا بہتے رہنا، بعض مریضوں کے پائخانے کا مسلسل خارج ہوتے رہنا، ان تمام لوگوں کا استحاضہ والی خاتون کا حکم ہے۔ ان افراد کا سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ ہر مستقل نماز کے لیے علیحدہ وضو کیا جائے گا، مثلا ایک آدمی زوال سے پہلے دو رکعت صلاۃ الاوابین پڑھتا ہے، پھر زوال کے بعد نماز ظہر ادا کرتا ہے اور اس کے متصل بعد نماز جنازہ پڑتا ہے، چونکہ یہ تین مستقل نمازیں ہیں، اس لیے تینوں کے لیے علیحدہ علیحدہ وضو کیا جائے گا، اسی طرح قرآن مجید کی تلاوت کے لیے بھی ایک دفعہ وضو کر لیا جائے گا۔ واللہ اعلم۔ فرض نمازوں کے پہلے یا بعد والی سنتیں اُن ہی کے تابع ہوتی ہیں، اس لیے ان کے لیے علیحدہ وضو کی ضرورت نہیں ہے۔
ہمارا نظریہ یہ ہے کہ قرآن مجیدکو چھونے کے لیے وضو کرنا چاہیے، اگر زبانی یا چھوئے بغیر دیکھ کر تلاوت کرنی ہو تو اس کے لیے وضو ضروری نہیں، مستحبّ ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 764
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 299، 300، وابن ماجه: 624، وأخرجه البخاري: 327، و مسلم: 334 من حديث فاطمة بنت ابي حبيش ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24145 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24646»