حدیث نمبر: 7639
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ اسْتَأْذَنَتِ الْحُمَّى عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَنْ هَذِهِ قَالَتْ أُمُّ مِلْدَمٍ قَالَ فَأَمَرَ بِهَا إِلَى أَهْلِ قُبَاءَ فَلَقُوا مِنْهَا مَا يَعْلَمُ اللَّهُ فَأَتَوْهُ فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَيْهِ فَقَالَ مَا شِئْتُمْ إِنْ شِئْتُمْ أَنْ أَدْعُوَ اللَّهَ لَكُمْ فَيَكْشِفَهَا عَنْكُمْ وَإِنْ شِئْتُمْ أَنْ تَكُونَ لَكُمْ طَهُورًا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَتَفْعَلُ قَالَ نَعَمْ قَالُوا فَدَعْهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ بخار نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت طلب کی، آپ نے فرمایا: یہ کون ہے؟ بخار نے کہا: میں ام ملدم ہوں،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے قباء والوں کے پاس چلے جانے کا حکم دیا، بس پھر اللہ ہی جانتا ہے کہ ان کو اس سے کیا تکلیف ہوئی، انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شکایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم کیا چاہتے ہو ،اگر تم چاہتے ہو تو میں تمہارے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں، وہ اسے تم سے دور کر دے گا اور اگر تم چاہتے ہو کہ یہ تمہارے گناہوں سے طہارت کا باعث بنے (تو اس طرح کر لو)۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا واقعتا یہ گناہ صاف کرتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ انہوں نے کہا: پھر اس کو اِدھر ہی رہنے دیں۔

وضاحت:
فوائد: … ام ملدم، بخار کی کنیت ہے اور یہ بات اپنی جگہ پر درست ہے کہ جسمانی تکالیف کی وجہ سے گناہوں کی معافی اور بلندیٔ درجات جیسے نعمتیں نصیب ہوتی ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7639
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «رجاله رجال الصحيح وفي متنه غرابة، أخرجه ابويعلي: 1892، وابن حبان: 2935، والحاكم: 1/ 346 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14393 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14446»