حدیث نمبر: 7637
عَنْ أَبِي جَمْرَةَ قَالَ كُنْتُ أَدْفَعُ النَّاسَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَاحْتَبَسْتُ أَيَّامًا فَقَالَ مَا حَبَسَكَ قُلْتُ الْحُمَّى قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَأَبْرِدُوهَا بِمَاءِ زَمْزَمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ ابوحمزہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں لوگوں کو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے دور ہٹایا کرتا تھا، ایک دفعہ میں کچھ دن نہ جا سکا، پھر بعد میں جب میں گیا تو انھوں نے کہا: میرے پاس آنے میں کیا چیز رکاوٹ بنی رہی؟ میں نے کہا:جی بخار میں مبتلا ہو گیا تھا، انھوں نے کہا:بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بخار دوزخ کی بھاپ میں سے ہے، اسے آب زم زم کے ذریعے ٹھنڈا کیا کرو۔

وضاحت:
فوائد: … زمزم کا پانی مبارک ہے، اس لیے اس سے کیا جانے والا غسل زیادہ مفید ہو گا، لیکن اس چیز کابھی امکان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد یہ ہو گا کہ زمزم کا پانی پیا جائے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَائُ زَمْزَمَ لِمَا شُرِبَ لَہٗ۔)) … زمزم کا پانی اسی مقصد کے لیے ہو گا، جس مقصد کے لیے پیا جائے گا۔ (ابن ماجہ: ۳۰۶۲)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7637
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه البخاري: 3261 بلفظ: فابردوھا بالمائ، أو قال: بماء زمزم شك ھمام ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2649 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2649»