الفتح الربانی
كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)— طب، دم، نظر بد، بیماری کا متعدی ہونا ، بد فال لینا اور نیک فال لینا
بَابُ النَّهْيِ عَنِ التَّدَاوِي بِمَا حَرَّمَهُ اللَّهُ عَزَّوَجَلَّ باب: حرام دوا سے علاج کروانے کے متعلق نہی کا بیان
حدیث نمبر: 7632
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ قَالَ ذَكَرَ طَبِيبٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَوَاءً وَذَكَرَ الضِّفْدَعَ يُجْعَلُ فِيهِ فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِ الضِّفْدَعِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ الرحمن بن عثمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک حکیم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک دوا کا ذکر کیا اور کہا کہ اس میں مینڈک بھی ڈالا جاتا ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مینڈک کو قتل کرنے سے منع فرما دیا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … اس سے ثابت ہوا کہ مینڈک کو مارنا منع ہے، سو اسے دوا میں استعمال کرنا اور کھانا بھی منع ہے۔ اس باب کی احادیث سے معلوم ہوا کہ حرام اور نجس چیز میں شفا نہیں ہوتی۔