الفتح الربانی
كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)— طب، دم، نظر بد، بیماری کا متعدی ہونا ، بد فال لینا اور نیک فال لینا
بَابُ النَّهْيِ عَنِ التَّدَاوِي بِمَا حَرَّمَهُ اللَّهُ عَزَّوَجَلَّ باب: حرام دوا سے علاج کروانے کے متعلق نہی کا بیان
حدیث نمبر: 7631
عَنْ عَقْلَمَةَ بْنِ وَائِلٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ مِنْ خَثْعَمَ يُقَالُ لَهُ سُوَيْدُ بْنُ طَارِقٍ عَنِ الْخَمْرِ فَنَهَاهُ فَقَالَ إِنَّمَا هُوَ شَيْءٌ نَصْنَعُهُ دَوَاءً فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا هِيَ دَاءٌترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں حاضر تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خثعم قبیلہ کے ایک آدمی نے، جس کا نام سوید بن طارق تھا، شراب کے متعلق دریافت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اس سے منع فرمایا، اس نے کہا: کیا اس کو بطور دوا استعمال کر لیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تو خود بیماری ہے۔