الفتح الربانی
كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)— طب، دم، نظر بد، بیماری کا متعدی ہونا ، بد فال لینا اور نیک فال لینا
بَابُ النَّهْيِ عَنِ التَّدَاوِي بِمَا حَرَّمَهُ اللَّهُ عَزَّوَجَلَّ باب: حرام دوا سے علاج کروانے کے متعلق نہی کا بیان
حدیث نمبر: 7630
عَنْ طَارِقِ بْنِ سُوَيْدٍ الْحَضْرَمِيِّ أَنَّهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ بِأَرْضِنَا أَعْنَابًا نَعْتَصِرُهَا فَنَشْرَبُ مِنْهَا قَالَ لَا فَعَاوَدْتُهُ فَقَالَ لَا فَقُلْتُ إِنَّا نَسْتَشْفِي بِهَا لِلْمَرِيضِ فَقَالَ إِنَّ ذَاكَ لَيْسَ شِفَاءً وَلَكِنَّهُ دَاءٌترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا طارق بن سوید حضرمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہماری سر زمین میں انگور ہیں، ہم ان کو نچوڑ کر (شراب بناتے ہیں) اور پھر پیتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ میں نے پھر اپنی بات دہرائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ میں نے کہا: ہم اس کے ذریعہ بیمار کے لیے شفا طلب کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک یہ شفا نہیں ہے، بلکہ یہ تو خود بیماری ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس سے ثابت ہواکہ شراب سے علاج حرام ہے، اسے پینا بھی حرام ہے اور ہر نجس اور حرام چیز کا یہی حکم ہے۔دیکھیں حدیث نمبر (۷۵۷۶)