حدیث نمبر: 7628
عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ ابْنَ أَبِي خِزَامَةَ أَحَدَ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ سَعْدِ بْنِ هُذَيْمٍ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ دَوَاءً نَتَدَاوَى بِهِ وَرُقًى نَسْتَرْقِيهَا وَتُقًى نَتَّقِيهَا هَلْ تَرُدُّ ذَلِكَ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مِنْ شَيْءٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ ابو خذامہ، جو بنو حارث بن سعد بن مریم میں سے ہیں، بیان کرتے ہیں: اے اللہ کے رسول! آپ بتائیں کہ ایک دوا کے ذریعہ ہم علاج کرواتے ہیں اور دم کے ذریعے دم کرواتے ہیں اوربچاؤ کے ذریعہ سے ہم بچاؤ اختیار کرتے ہیں (یعنی احتیاط کر لیتے ہیں )کیا یہ امور اللہ تعالیٰ کی تقدیر کو ردّ کر دیتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ بھی اللہ تعالیٰ کی تقدیر کاحصہ ہیں۔

وضاحت:
فوائد: … کسی بیماری کا علاج کرنے یا کروانے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اللہ تعالی کی تقدیر کا مقابلہ کیا جا رہا ہے، بیماری اللہ تعالی کی آزمائش ہے، ہمیشہ اس سے عافیت کا سوال کرنا چاہیے، اور اگر آدمی اس میں مبتلا ہو جائے تو اس کو چاہیے کہ وہ شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے اس کا علاج کرے، ممکن ہے کہ شفا ہو جائے اور یہ بھی ممکن ہے کہ شفا نہ ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7628
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، أخرجه الترمذي: 2148، وابن ماجه: 3437، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15472 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15553»