الفتح الربانی
كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)— طب، دم، نظر بد، بیماری کا متعدی ہونا ، بد فال لینا اور نیک فال لینا
بَاب مَا جَاءَ فِي الْحَقِّ عَلَى التَّدَاوِي ، وَأَنَّ لِكُلِّ دَاء دَوَاء باب: علاج کرنے پر آمادہ کرنے اور اس چیز کا بیان کہ ہر بیماری کی دوا ہے
حدیث نمبر: 7627
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَكَانَ الْكَيِّ التَّكْمِيدُ وَمَكَانَ الْعِلَاقِ السَّعُوطُ وَمَكَانَ النَّفْخِ اللَّدُودُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: داغنے کے بجائے کپڑے سے سینکنا بہتر ہے، گلے میں انگلی مارکر دوائی لگانے کی بجائے ناک میں قطرہ ڈالنا بہتر طریقہ علاج ہے اور اب گلے میں پھونکیں مارنے کی بہ نسبت منہ کی ایک جانب سے دوائی ڈالنا بہتر طریقہ علاج ہے۔
وضاحت:
فوائد: … کپڑنے سے سینکنے سے مراد یہ ہے کہ کپڑے کو گرم کر کے زخم پر رکھا جائے اور یہ عمل بار بار دوہرایا جائے۔