حدیث نمبر: 7626
عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ أَتَيْتُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَإِذَا هُوَ يَكْوِي غُلَامًا قَالَ قُلْتُ تَكْوِيهِ قَالَ نَعَمْ هُوَ دَوَاءُ الْعَرَبِ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يُنْزِلْ دَاءً إِلَّا وَقَدْ أَنْزَلَ مَعَهُ دَوَاءً جَهِلَهُ مِنْكُمْ مَنْ جَهِلَهُ وَعَلِمَهُ مِنْكُمْ مَنْ عَلِمَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ عطاء بن سائب بیان کرتے ہیں کہ میں عبد الرحمن کے پاس آیا، وہ ایک غلام کو داغ لگا رہے تھے، میں نے کہا: تم اسے داغتے ہو؟ انھوں نے کہا: ہاں یہ عرب والوں کا طریقۂ علاج ہے، سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے جو بیماری بھی پیدا کی ہے، اس کے ساتھ اس کی دواء بھی نازل کی ہے، تم میں سے جو آدمی اس سے نادان رہا ہے، وہ نادان رہا ہے اور جس نے اسے جان لیا ہے، سو اس نے جان لیا۔

وضاحت:
فوائد: … جہاں اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت و دانائی کے تقاضے کے مطابق مختلف قسم کی بیماریاں نازل کی ہیں، وہاں اپنے بندوں پر احسان کرتے ہوئے ان کے علاج کے اسباب بھی پیدا فرمائے ہیں۔ عصرِ حاضر میں مختلف بیماریوں کے مختلف قسم کے علاج کی تحقیقات سامنے آ رہی ہیں، جو سکون دہ بھی ہیں اور شافی بھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7626
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه الحميدي: 90، والبيھقي: 9/ 343، وابن حبان: 6062، وابويعلي: 5183 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4267 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4267»