الفتح الربانی
كتاب الصيد و الذبائح— شکار اور ذبائح کا بیان
بَابُ فِي إِنَّ مَا أُبَيْنَ مِنْ حَى فَهُوَ مَيْتَةٌ، وَمَا لا يَجُوزُ أَكْلُهُ مِنَ الدَّبَائِحِ باب: زندہ جانور سے علیحدہ کئے ہوئے حصے کے مردار ہو نے اور ان ذبیحوں کا بیان، جن کو کھانا جائز نہیں ہے
حدیث نمبر: 7620
عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَبِهَا نَاسٌ يَعْمِدُونَ إِلَى أَلْيَاتِ الْغَنَمِ وَأَسْنِمَةِ الْإِبِلِ فَيَجُبُّونَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا قُطِعَ مِنَ الْبَهِيمَةِ وَهِيَ حَيَّةٌ فَهِيَ مَيْتَةٌترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو وہاں کچھ لوگ تھے، جو بکریوں کے سرین اور اونٹوں کی کوہانیں کاٹ کر (کھا لیتے)،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو زندہ جانور سے گوشت کاٹ لیا جائے، وہ گوشت مردار ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس سے جانور کو انتہائی اذیت ہوتی ہے، شریعت نے بھی کاٹے ہوئے ایسے حصے کو حرام قرار دیا ہے۔