الفتح الربانی
كتاب الصيد و الذبائح— شکار اور ذبائح کا بیان
بَابُ ذَكَاةِ الْمُتَرَدِّيَّةِ وَالنَّافِرِةِ وَالْجَنِيْنِ فِي بَطْنِ أُمِّهِ باب: گر نے والے، بدک جانے والے اور ماں کے پیٹ میں موجود بچے کا بیان
حدیث نمبر: 7616
عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وَأَصَابَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهْبًا فَنَدَّ بَعِيرٌ مِنْهَا فَسَعَوْا فَلَمْ يَسْتَطِيعُوهُ فَرَمَاهُ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ بِسَهْمٍ فَحَبَسَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِهَذِهِ الْإِبِلِ أَوِ النَّعَمِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ فَإِذَا غَلَبَكُمْ شَيْءٌ مِنْهَا فَاصْنَعُوا بِهِ هَكَذَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کچھ مال غنیمت ملا، اس میں سے ایک اونٹ بدک گیا، لوگو ں نے بہت روکنے کی کوشش کی، لیکن وہ روکنے کی طاقت نہ رکھ سکے، ایک آدمی نے اس پر تیر پھینکا، تو وہ رک گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بعض اونٹ وحشیوں کی طرح بدک جاتے ہیں، اگر کوئی ایسا جانور تم پر غالب آ جائے تو اس کے ساتھ اسی طرح کیا کرو۔
وضاحت:
فوائد: … جس جانور کو پکڑ کر ذبح کیا جا سکے، اس کے ذبح کے قوانین مقرر ہیں، لیکن اگر کوئی ایسا جانور بدک جائے اور اس کو قابو میں لانے کی کوئی صورت نہ ہو تو بسم اللہ پڑھ کر اس پر تیر یا گولی وغیرہ چلا دی جائے، اگر اس کا خون بہہ گیا اور وہ ذبح کرنے سے پہلے مر گیا تو وہ حلال ہو گا، جیسے شکار حلال ہوتا ہے۔