الفتح الربانی
كتاب الصيد و الذبائح— شکار اور ذبائح کا بیان
بَابُ جَوَازِ الذَّبْحِ بِكُلِّ مَا أَنْهَرَ الدَّمَ إِلَّا السِّنُ وَالظُّفْرُ وَمَا يُفْعَلُ بِالْبَعِيرِ النَّادِ باب: جو چیز بھی خون بہا دے،اس کے ذریعے ذبح کرنے کے جواز کا بیان، ما سوائے دانت اور ناخن کے، نیز اس امر کی وضاحت کہ بدک جانے والے اونٹ کے ساتھ کیا کیا جائے گا
حدیث نمبر: 7614
عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي حَارِثَةَ أَنَّ رَجُلًا وَجَأَ نَاقَةً فِي لَبَّتِهَا بِوَتَدٍ وَخَشِيَ أَنْ تَفُوتَهُ فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهُمْ بِأَكْلِهَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عطاء بن یسار، بنو حارثہ کے ایک آدمی سے بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنی اونٹنی کے گلے کے گڑھے میں ایک میخ مار دی اور اسے اندیشہ ہوا تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ ویسے ہی مر جائے، اس لیے اس نے میخ سے ذبح کر دی، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو کھانے کی اجازت دے دی۔