الفتح الربانی
كتاب الصيد و الذبائح— شکار اور ذبائح کا بیان
بَابُ جَوَازِ الذَّبْحِ بِكُلِّ مَا أَنْهَرَ الدَّمَ إِلَّا السِّنُ وَالظُّفْرُ وَمَا يُفْعَلُ بِالْبَعِيرِ النَّادِ باب: جو چیز بھی خون بہا دے،اس کے ذریعے ذبح کرنے کے جواز کا بیان، ما سوائے دانت اور ناخن کے، نیز اس امر کی وضاحت کہ بدک جانے والے اونٹ کے ساتھ کیا کیا جائے گا
حدیث نمبر: 7612
عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ ذِئْبًا نَيَّبَ فِي شَاةٍ فَذَبَحُوهَا بِمَرْوَةٍ فَرَخَّصَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي أَكْلِهَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بکری میں ایک بھیڑیئے نے دانت چبھو دیئے، لیکن پھر لوگوں نے اسے پتھر سے ذبح کر دیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو کھا لینے کی رخصت دے دی۔
وضاحت:
فوائد: … اگر کوئی درندہ حلال جانور کو زخمی کر دے اور اس کو زندہ پا کر ذبح کر لیا جائے تو وہ حلال ہی ہو گا، یہی معاملہ اس جانور کا ہے، جو کسی طرح سے زخمی ہو جائے۔