الفتح الربانی
كتاب الصيد و الذبائح— شکار اور ذبائح کا بیان
بَابُ جَوَازِ الذَّبْحِ بِكُلِّ مَا أَنْهَرَ الدَّمَ إِلَّا السِّنُ وَالظُّفْرُ وَمَا يُفْعَلُ بِالْبَعِيرِ النَّادِ باب: جو چیز بھی خون بہا دے،اس کے ذریعے ذبح کرنے کے جواز کا بیان، ما سوائے دانت اور ناخن کے، نیز اس امر کی وضاحت کہ بدک جانے والے اونٹ کے ساتھ کیا کیا جائے گا
عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لَاقُو الْعَدُوِّ غَدًا وَلَيْسَ مَعَنَا مُدًى قَالَ مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ عَلَيْهِ اسْمُ اللَّهِ فَكُلْ لَيْسَ السِّنَّ وَالظُّفُرَ وَسَأُحَدِّثُكَ أَمَّا السِّنُّ فَعَظْمٌ وَأَمَّا الظُّفُرُ فَمُدَى الْحَبَشَةِ قَالَ وَأَصَابَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهْبًا فَنَدَّ مِنْهَا بَعِيرٌ فَسَعَوْا لَهُ فَلَمْ يَسْتَطِيعُوا فَرَمَاهُ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فَحَبَسَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِهَذِهِ الْإِبِلِ أَوْ قَالَ لِهَذِهِ النَّعَمِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ فَمَا غَلَبَكُمْ فَاصْنَعُوا بِهِ هَكَذَا قَالَ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَجْعَلُ فِي قِسْمِ الْغَنَائِمِ عَشْرًا مِنَ الشَّاءِ بِبَعِيرٍ۔ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمارا کل دشمن سے مقابلہ ہونے والا ہے، اگر جانور ذبح کرنے کے لیے ہمارے پاس چھری نہ ہو توہمیں کیا کرنا چاہیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو چیز خون بہا دے اور اس پر اللہ کا نام ذکر کیا گیا ہو، اس کو کھا لو، البتہ وہ دانت اور ناخن نہ ہو،میں تمھیں بتاتا ہوں کہ دانت اور ناخن کی وجہ کیا ہے، دانت ہڈی ہے اور ناخن حبشہ کی چھری ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کچھ مال غنیمت ملا، اس میں سے ایک اونٹ بھاگ نکلا، لوگو ں نے بہت روکنے کی کوشش کی، لیکن وہ روکنے کی طاقت نہ رکھ سکے، ایک آدمی نے اس پر تیر پھینکا، تو وہ رک گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بعض اونٹ وحشیوں کی طرح بدک جاتے ہیں، اگر کوئی ایسا جانور تم پر غالب آ جائے تو اس کے ساتھ اسی طرح کیا کرو۔ اس دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مال غنیمت تقسیم کرتے ہوئے ایک اونٹ کے عوض دس بکریاں شمار کی تھیں۔