الفتح الربانی
كتاب الصيد و الذبائح— شکار اور ذبائح کا بیان
بَابُ جَوَازِ الذَّبْحِ بِكُلِّ مَا أَنْهَرَ الدَّمَ إِلَّا السِّنُ وَالظُّفْرُ وَمَا يُفْعَلُ بِالْبَعِيرِ النَّادِ باب: جو چیز بھی خون بہا دے،اس کے ذریعے ذبح کرنے کے جواز کا بیان، ما سوائے دانت اور ناخن کے، نیز اس امر کی وضاحت کہ بدک جانے والے اونٹ کے ساتھ کیا کیا جائے گا
حدیث نمبر: 7608
عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ جَارِيَةً لِكَعْبٍ كَانَتْ تَرْعَى غَنَمًا لَهُ بِسَلْعٍ فَعَدَا الذِّئْبُ عَلَى شَاةٍ مِنْ شَاتِهَا فَأَدْرَكَتْهَا الرَّاعِيَةُ فَذَكَّتْهَا بِمَرْوَةٍ فَسَأَلَ كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهُ بِأَكْلِهَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا کعب بن مالک کا بیٹا بیان کرتا ہے کہ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کی لونڈی سلع پہاڑ کے دامن میں ان کی بکریاں چرا رہی تھی، ایک بکری پر بھیڑیا حملہ آور ہوا، لیکن جب اس چرواہی نے اس بکری کو زندہ پایا تو اس نے ایک پتھر کے ذریعے اس کو ذبح کر دیا، جب سیدنا کعب بن مالک نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھانے کی اجازت دے دی۔
وضاحت:
فوائد: … اگر پتھر کی دھار تیز ہو اور وہ چھری کی طرح جسم کو چیر دے تو اس سے ذبح کرنا بھی درست ہے، درج ذیل حدیث میں ذبح والے آلے کا کلیہ بیان کیا گیا ہے۔