الفتح الربانی
كتاب الصيد و الذبائح— شکار اور ذبائح کا بیان
بَابُ الرِّفْقِ بِالذَبِيحَةِ وَالْإِجْهَازِ عَلَيْهَا ، وَحَدٌ السُّفْرَةِ وَتَرْكِ ذَاتِ الدَّرُ وَالنَّسل باب: ذبیحہ سے نرمی کرنے، اس کو جلدی جلدی ذبح کر دینے، چھری کو تیز کرنے اور دودھ والے جانور کو چھوڑ دینے کا بیان
حدیث نمبر: 7606
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَعَمِدْتُ إِلَى عَنْزٍ لِأَذْبَحَهَا فَثَغَتْ فَسَمِعَ ثَغَاءَهَا فَقَالَ يَا جَابِرُ لَا تَقْطَعْ دَرًّا وَلَا نَسْلًا فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّمَا هِيَ عَتُودَةٌ عَلَفْتُهَا الْبَلَحَ وَالرُّطَبَ حَتَّى سَمِنَتْترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے، میں نے ایک بکری ذبح کرنے کا ارادہ کیا، تو اس نے آواز نکالی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی آواز سن لی اور فرمایا: اے جابر! دودھ اور نسل والی بکری ذبح نہ کرنا۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! یہ بکری چھوٹی ہے، میں نے اسے کچی اورترکھجوریں چارہ ڈال کر موٹا تازہ کیا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … تمام احادیث اپنے مفہوم میںواضح ہیں، اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ جانور کے لیے مشکل ترین مرحلہ ذبح کا ہوتا ہے، لیکن حتی الوسع ایسا طریقہ اختیار کیا جائے کہ اس کو کم سے کم تکلیف ہو۔