الفتح الربانی
كتاب الصيد و الذبائح— شکار اور ذبائح کا بیان
بَابُ الرِّفْقِ بِالذَبِيحَةِ وَالْإِجْهَازِ عَلَيْهَا ، وَحَدٌ السُّفْرَةِ وَتَرْكِ ذَاتِ الدَّرُ وَالنَّسل باب: ذبیحہ سے نرمی کرنے، اس کو جلدی جلدی ذبح کر دینے، چھری کو تیز کرنے اور دودھ والے جانور کو چھوڑ دینے کا بیان
حدیث نمبر: 7604
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ ذَبَحَ عُصْفُورًا بِغَيْرِ حَقِّهِ سَأَلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قِيلَ وَمَا حَقُّهُ قَالَ يَذْبَحُهُ ذَبْحًا وَلَا يَأْخُذُ بِعُنُقِهِ فَيَقْطَعَهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے چڑیا کو بغیر حق کے ذبح کیا اس سے روز قیامت اللہ تعالیٰ پوچھیں گے۔ کسی نے پوچھا: اس کا حق کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے ذبح کیا جائے اور اس کی گردن اس طرح نہ پکڑی جائے کہ وہ مکمل کٹ جائے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ روایت تو ضعیف ہے، بہرحال اگر ذبح کے دوران مکمل گردن کٹ بھی جائے تو اس سے جانور کی حلت متاثر نہیں ہوتی اور اس پر کراہت یا حرمت کا حکم نہیں لگایا جا سکتا۔