الفتح الربانی
كتاب الصيد و الذبائح— شکار اور ذبائح کا بیان
بَابُ الرِّفْقِ بِالذَبِيحَةِ وَالْإِجْهَازِ عَلَيْهَا ، وَحَدٌ السُّفْرَةِ وَتَرْكِ ذَاتِ الدَّرُ وَالنَّسل باب: ذبیحہ سے نرمی کرنے، اس کو جلدی جلدی ذبح کر دینے، چھری کو تیز کرنے اور دودھ والے جانور کو چھوڑ دینے کا بیان
حدیث نمبر: 7603
عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِحَدِّ الشِّفَارِ وَأَنْ تُوَارَى عَنِ الْبَهَائِمِ وَإِذَا ذَبَحَ أَحَدُكُمْ فَلْيُجْهِزْترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چھری تیز کرنے کا اور اس کو جانورں سے اوجھل رکھنے کا حکم دیا اور یہ بھی فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی جانور ذبح کرے تو جلدی جلدی ذبح کر دے۔
وضاحت:
فوائد: … جلدی ذبح کرنے سے مراد یہ ہے کہ اس انداز میں ذبح نہ کیا جائے کہ جانور کو خواہ مخواہ کی تکلیف ہوتی رہے، مثلا جانور کو دیر تک لٹائے رکھنا، گلہ کاٹنے کے لیے چھری بہت آہستہ چلانا، ذبح کے ماہرین اس مسئلہ کو بخوبی سمجھتے ہیں۔