الفتح الربانی
كتاب الصيد و الذبائح— شکار اور ذبائح کا بیان
بَابُ الرِّفْقِ بِالذَبِيحَةِ وَالْإِجْهَازِ عَلَيْهَا ، وَحَدٌ السُّفْرَةِ وَتَرْكِ ذَاتِ الدَّرُ وَالنَّسل باب: ذبیحہ سے نرمی کرنے، اس کو جلدی جلدی ذبح کر دینے، چھری کو تیز کرنے اور دودھ والے جانور کو چھوڑ دینے کا بیان
حدیث نمبر: 7602
عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ ثِنْتَانِ حَفِظْتُهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ وَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: دو چیزیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یاد کی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہر چیز پر احسان کرنا فرض قرار دیا ہے، پس جب تم کسی کو ضرورت کے تحت قتل کرو تو اچھے انداز میں قتل کرو اور جب تم ذبح کرو تو ذبح کا اچھا انداز اختیار کرو، اپنی چھری تیز رکھو اور اپنے ذبح کئے جانے والے جانور کو آرام پہنچاؤ۔