حدیث نمبر: 7600
عَنْ سَالِمٍ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ لَقِيَ زَيْدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِأَسْفَلِ بَلْدَحَ وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْوَحْيُ فَقَدَّمَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سُفْرَةً فِيهَا لَحْمٌ فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا وَقَالَ إِنِّي لَا آكُلُ مِمَّا تَذْبَحُونَ عَلَى أَنْصَابِكُمْ وَلَا آكُلُ إِلَّا مَا ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَحَدَّثَ هَذَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، زید بن عمرو بن نفیل کو بلدح وادی کی نچلی جانب ملے، یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل ہونے سے پہلے کی بات ہے، زید کے سامنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دستر خوان پیش کیا، اس پر گوشت بھی رکھا گیا، لیکن زید نے کھانے سے انکار کر دیا اور کہا: میں وہ چیز نہیں کھاتا، جو تم لوگ اپنے بتوں پر ذبح کرتے ہو، میں صرف وہی کھاتا ہوں جس پر اللہ تعالیٰ کا نام لیا جائے، سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ حدیث رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کی ہے۔

وضاحت:
فوائد: … اس حدیث میں یہ وضاحت تو نہیں ہے کہ آیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ گوشت خود بھی کھایا تھا، فرض کریں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تناول فرمایا ہے تو زید بن عمرو کی اس بات کو ان کی ذاتی رائے سمجھیں گے، کیونکہ انھوں نے اپنی رائے کی روشنی میں یہ بات کی تھی، جبکہ دورِ جاہلیت والے لوگوں کے پاس ابراہیم علیہ السلام کے دین کی کچھ باتیں تھیں، ان میں سے ایک یہ تھی کہ مردار حرام تھا، ان کے ہاں یہ بات نہیں تھی کہ جس جانور پر اللہ تعالی کا نام نہ لیا جائے،
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيد و الذبائح / حدیث: 7600
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3826، 5499، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5631 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5631»