الفتح الربانی
كتاب الإيمان و الإسلام— ایمان اور اسلام کی کتاب
فِي وَفَادَةِ رِجَالٍ مِنَ الْعَرَبِ لَمْ يُسَمَّوا باب: عرب کے ایسے لوگوں کی آمد کا بیان، جن کانام نہیں لیا گیا
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَعْرَابِيًّا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ إِذَا عَمِلْتُهُ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ، قَالَ: ((تَعْبُدُ اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ وَتُؤَدِّي الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ وَتَصُومُ رَمَضَانَ)) قَالَ: وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ! لَا أَزِيدُ عَلَى هَذَا أَبَدًا وَلَا أَنْقُصُ مِنْهُ، فَلَمَّا وَلَّى قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا))سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک بدو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! آپ میرے لیے ایسے عمل کی نشاندہی کر دیں کہ اگر میں وہ عمل کروں تو جنت میں داخل ہو جاؤں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، فرض نماز قائم کرو، فرض زکوٰۃ ادا کرو اور رمضان کے روزے رکھو۔“ اس نے کہا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! میں نہ ان عبادات پر زیادتی کروں گا اور نہ ان میں کمی ہونے دوں گا،“ جب وہ چلا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کو یہ بات بھلی لگے کہ وہ اہلِ جنت میں کسی آدمی کو دیکھے تو وہ اس آدمی کو دیکھ لے۔“
قارئین کرام!کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غور کیا کہ جو وفد یا آدمی اسلامی تعلیمات کے حصول کے لیے پہلی دفعہ بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مختلف احکام کے ساتھ ساتھ اس کو نمازکا حکم ضرور دیا، لیکن اس وقت محتاط اندازے کے مطابق (%۹۳) مسلمان اس اہم فریضے کو ادا کرنے سے غافل ہیں، دراصل ایسے لوگ اسلام اور روح اسلام سے بہت دور ہیں، ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حقوق کا شعور تک نہیں ہے۔ نماز ہی مسلمان کی علامت اور پہچان ہے۔