حدیث نمبر: 7599
عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْنَا لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبِرْنَا بِشَيْءٍ أَسَرَّهُ إِلَيْكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا أَسَرَّ إِلَيَّ شَيْئًا كَتَمَهُ النَّاسَ وَلَكِنْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ آوَى مُحْدِثًا وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَيْهِ وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ غَيَّرَ تُخُومَ الْأَرْضِ يَعْنِي الْمَنَارَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ ابو طفیل کہتے ہیں: ہم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا: ہمیں وہ چیز بتاؤ، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تم لوگوں کو راز داری سے بتائی ہو، انہوں نے کہا: ہمارے لے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی چیز بطور راز داری کے بیان نہیں کی کہ جسے لوگوں سے چھپایا ہو، البتہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: اللہ تعالیٰ نے اس پر لعنت کی، جو غیر اللہ کے لیے ذبح کرے گا، اللہ تعالیٰ اس شخص پر لعنت کی، جوبدعتی کوجگہ دے گا، اللہ تعالیٰ نے اس آدمی پر لعنت کی ، جو اپنے والدین پر لعنت کرے گا اور اللہ تعالیٰ نے اس شخص پر لعنت کی، جو زمین کی علامات تبدیل کرے گا۔

وضاحت:
فوائد: … لعنت سے مراد اللہ تعالی کی پھٹکار، اس کی مار، اللہ تعالی کی خیر و رحمت سے دوری اور اس کے عتاب و غضب کی بد دعا کرنا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيد و الذبائح / حدیث: 7599
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1978، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 855 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 855»