الفتح الربانی
كتاب الصيد و الذبائح— شکار اور ذبائح کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّسْمِيَةِ وَالذَّبْحِ لِغَيْرِ اللَّهِ باب: ذبح پر بسم اللہ پڑھنے اور غیر اللہ کے لیے ذبح کرنے کابیان
عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْنَا لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبِرْنَا بِشَيْءٍ أَسَرَّهُ إِلَيْكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا أَسَرَّ إِلَيَّ شَيْئًا كَتَمَهُ النَّاسَ وَلَكِنْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ آوَى مُحْدِثًا وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَيْهِ وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ غَيَّرَ تُخُومَ الْأَرْضِ يَعْنِي الْمَنَارَ۔ ابو طفیل کہتے ہیں: ہم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا: ہمیں وہ چیز بتاؤ، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تم لوگوں کو راز داری سے بتائی ہو، انہوں نے کہا: ہمارے لے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی چیز بطور راز داری کے بیان نہیں کی کہ جسے لوگوں سے چھپایا ہو، البتہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: اللہ تعالیٰ نے اس پر لعنت کی، جو غیر اللہ کے لیے ذبح کرے گا، اللہ تعالیٰ اس شخص پر لعنت کی، جوبدعتی کوجگہ دے گا، اللہ تعالیٰ نے اس آدمی پر لعنت کی ، جو اپنے والدین پر لعنت کرے گا اور اللہ تعالیٰ نے اس شخص پر لعنت کی، جو زمین کی علامات تبدیل کرے گا۔