حدیث نمبر: 7594
عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ قَرِيبًا لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَذَفَ فَنَهَاهُ وَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْخَذْفِ وَقَالَ إِنَّهَا لَا تَصِيدُ صَيْدًا وَلَا تَنْكَأُ عَدُوًّا وَلَكِنَّهَا تَكْسِرُ السِّنَّ وَتَفْقَأُ الْعَيْنَ قَالَ فَعَادَ فَقَالَ حَدَّثْتُكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهَا ثُمَّ عُدْتَ لَا أُكَلِّمُكَ أَبَدًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سعید بن جبیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کے ایک رشتہ دار نے کنکری پھینکی، انہوں نے اس کو منع کیا اور کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کنکری پھینکنے سے منع کیا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا ہے کہ اس سے نہ تو شکارہو گا اور نہ دشمن کا نقصان ہو گا، البتہ یہ چیز دانت کو توڑ سکتی ہے اور کسی کی آنکھ پھوڑ سکتی ہے۔ اس آدمی نے دوبارہ کنکری پھینکی، اس بار انھوں نے کہا: میں نے تجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث سنائی ہے تو پھر وہی کام کر رہا ہے، جس سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع کیا ہے، میں تجھ سے کبھی کلام نہیں کروں گا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيد و الذبائح / حدیث: 7594
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1954، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20551 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20825»