الفتح الربانی
أبواب الوضوء— وضو کے ابواب
الْفَصْلُ الثَّانِي فِي الْوُضُوءِ مِنَ الرِّيحِ باب: ہواخارج ہونے سے وضو کرنا
حدیث نمبر: 759
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ قَالَ: رَأَيْتُ السَّائِبَ بْنَ خَبَّابٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَشُمُّ ثَوْبَهُ، فَقُلْتُ لَهُ: مِمَّ ذَلِكَ؟ فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((لَا وَضُوءَ إِلَّا مِنْ رِيحٍ أَوْ سَمَاعٍ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
محمد بن عمرو کہتے ہیں: میں نے سیدنا سائب بن خباب ؓ کو دیکھا کہ وہ اپنے کپڑے کو سونگ رہے تھے، میں نے کہا: ایسے کیوں کر رہے ہو؟ انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: صرف بدبوسے یا ہوا کی آواز سن لینے سے وضو ہے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ حکم اس شخص کے لیے ہے، جس کو وضو کر لینے کے بعد وضو کے ٹوٹ جانے کا شک پڑ جائے،یعنی جب تک اسے بدبو پا لینے یا آواز سن لینے کے ساتھ یہ یقین نہ ہو جائے کہ واقعی وضو ٹوٹ گیا ہے، تو اس کا پہلا وضو برقرار رہے گا۔ اگلی حدیث کے فوائد میں مذکورہ حدیث سے یہی مفہوم واضح ہو رہا ہے۔