الفتح الربانی
كتاب الصيد و الذبائح— شکار اور ذبائح کا بیان
بابُ الصَّيْدِ بِالقَوْسِ وَحُكْمِ الْرَمِيَّةِ إِذَا غَابَتْ أَوْ وَقَعَتْ فِي مَاءٍ باب: کمان سے شکار کرنے کا اور غائب ہو جانے والے یا پانی میں گر جانے والے شکار کے حکم کا بیان
حدیث نمبر: 7589
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا وَقَعَتْ رَمْيَتُكَ فِي الْمَاءِ فَغَرَقَ فَلَا تَأْكُلْترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عدی رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس شکار پر تم نے تیر چلایا ہو، لیکن (تیر لگنے کے بعد) وہ پانی میں گر کر مر گیا ہو تو اس کو نہیں کھانا۔
وضاحت:
فوائد: … ممکن ہے کہ ایسا جانور پانی میں ڈوب جانے کی وجہ سے مرا ہو، اس لیے اس کو حرام سمجھا جائے گا۔