الفتح الربانی
كتاب الصيد و الذبائح— شکار اور ذبائح کا بیان
بابُ الصَّيْدِ بِالقَوْسِ وَحُكْمِ الْرَمِيَّةِ إِذَا غَابَتْ أَوْ وَقَعَتْ فِي مَاءٍ باب: کمان سے شکار کرنے کا اور غائب ہو جانے والے یا پانی میں گر جانے والے شکار کے حکم کا بیان
عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْتُ إِنَّ أَرْضَنَا أَرْضُ صَيْدٍ فَيَرْمِي أَحَدُنَا الصَّيْدَ فَيَغِيبُ عَنْهُ لَيْلَةً أَوْ لَيْلَتَيْنِ فَيَجِدُهُ وَفِيهِ سَهْمُهُ قَالَ إِذَا وَجَدْتَ سَهْمَكَ وَلَمْ تَجِدْ فِيهِ أَثَرًا غَيْرَهُ وَعَلِمْتَ أَنَّ سَهْمَكَ قَتَلَهُ فَكُلْهُ وَبِلَفْظٍ آخَرَ فَإِذَا وَجَدْتَ فِيهِ سَهْمَكَ وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ سَبُعٌ فَكُلْ۔ سیدنا عدی بن حاتم طائی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا کہ ہماری سر زمین شکارکے لیے بہت موزوں ہے، ہم میں سے اگر کوئی شکارکو تیر مارتا ہے اوروہ شکار ایک یا د ودن غائب رہتاہے اور پھر وہ پایا جاتا ہے اور اس میں وہی تیر موجود ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم اس میں اپنا تیر پاتے ہو اور اس میں کسی اور تیرکے اثرات نہ ہوں اور تم جانتے ہو کہ اسے تمہارے تیر نے ہی مارا ہے تو تم اسے کھا لو۔ ایک روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم اس میں اپنا تیر لگا ہوا دیکھتے ہیں اور اس سے کسی درندے نے نہ کھایا ہو تو پھر تم وہ شکار کھا سکتے ہو۔