حدیث نمبر: 7588
عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْتُ إِنَّ أَرْضَنَا أَرْضُ صَيْدٍ فَيَرْمِي أَحَدُنَا الصَّيْدَ فَيَغِيبُ عَنْهُ لَيْلَةً أَوْ لَيْلَتَيْنِ فَيَجِدُهُ وَفِيهِ سَهْمُهُ قَالَ إِذَا وَجَدْتَ سَهْمَكَ وَلَمْ تَجِدْ فِيهِ أَثَرًا غَيْرَهُ وَعَلِمْتَ أَنَّ سَهْمَكَ قَتَلَهُ فَكُلْهُ وَبِلَفْظٍ آخَرَ فَإِذَا وَجَدْتَ فِيهِ سَهْمَكَ وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ سَبُعٌ فَكُلْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عدی بن حاتم طائی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا کہ ہماری سر زمین شکارکے لیے بہت موزوں ہے، ہم میں سے اگر کوئی شکارکو تیر مارتا ہے اوروہ شکار ایک یا د ودن غائب رہتاہے اور پھر وہ پایا جاتا ہے اور اس میں وہی تیر موجود ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم اس میں اپنا تیر پاتے ہو اور اس میں کسی اور تیرکے اثرات نہ ہوں اور تم جانتے ہو کہ اسے تمہارے تیر نے ہی مارا ہے تو تم اسے کھا لو۔ ایک روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم اس میں اپنا تیر لگا ہوا دیکھتے ہیں اور اس سے کسی درندے نے نہ کھایا ہو تو پھر تم وہ شکار کھا سکتے ہو۔

وضاحت:
فوائد: … اگر درندے کے کھانے کے اثرات موجود ہوں تو یہ شبہ پیدا ہو جائے گا کہ ممکن ہے کہ یہ جانور درندے کے کھانے کی وجہ سے مرا ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيد و الذبائح / حدیث: 7588
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه الترمذي: 2970، 2971 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19376 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19594»