حدیث نمبر: 7585
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي كَانَ يَصِلُ الرَّحِمَ وَيَقْرِي الضَّيْفَ وَيَفْعَلُ كَذَا قَالَ إِنَّ أَبَاكَ أَرَادَ شَيْئًا فَأَدْرَكَهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرْمِي الصَّيْدَ وَلَا أَجِدُ مَا أُذَكِّيهِ بِهِ إِلَّا الْمَرْوَةَ وَالْعَصَا قَالَ أَمِرَّ الدَّمَ بِمَا شِئْتَ ثُمَّ اذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قُلْتُ طَعَامٌ مَا أَدَعُهُ إِلَّا تَحَرُّجًا قَالَ مَا ضَارَعْتَ فِيهِ نَصْرَانِيَّةً فَلَا تَدَعْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے باپ حاتم طائی صلہ رحمی کرتے تھے اور کوئی نیک کام کرتے تھے؟ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک تمہارے والد نے جس کام کا ارادہ کیا تھا، اس نے اس کو پا لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد شہرت اور نمود و نمائش تھی، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں تیر پھینکتا ہوں اب شکار ذبح کرنے کے لیے میرے پاس صرف پتھر یا لاٹھی ہوتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بسم اللہ پڑھو اور شکار سے خون جاری کردو (یعنی خون جاری کر دینے والا کوئی آلہ استعمال کر لو)۔ میں نے کہا: بعض کھانے ایسے ہوتے ہیں کہ میں ان کو صرف گناہ میں واقع ہونے کے خوف سے چھوڑ دیتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کھانے کو چھوڑنے میں عیسائیت سے مشابہت پیدا ہوتی ہو وہ کھانا نہ چھوڑنا۔

وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ شکاری جانور چھوڑتے وقت یا تیر چلاتے اور گولی فائر کرتے وقت بسم اللہ پڑھنی چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيد و الذبائح / حدیث: 7585
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح دون قصة مضارعة النصرانية، فان ھذه القصة ضعيفة لجھالة مري بن قطري، أخرجه ابن ماجه: 3177 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18250، 18262 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18439»