الفتح الربانی
كتاب الصيد و الذبائح— شکار اور ذبائح کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي مَا إِذَا أَكَلَ الْكَلْبُ مِنَ الصَّيْدِ باب: کتا شکار میں سے کھا لے تو اس کا حکم
حدیث نمبر: 7582
عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرْسَلْتَ الْكَلْبَ فَأَكَلَ مِنَ الصَّيْدِ فَلَا تَأْكُلْ فَإِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى نَفْسِهِ وَإِذَا أَرْسَلْتَهُ فَقَتَلَ وَلَمْ يَأْكُلْ فَكُلْ فَإِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى صَاحِبِهِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم اپنا کتا شکار کے لیے چھوڑتے ہو اور وہ اس میں سے کچھ کھا لیتا ہے تو پھر وہ شکار نہ کھانا، کیونکہ اس کا مطلب یہ ہو گا کہ اس نے اپنے لیے روکا ہے اور جب تم اپناکتا چھوڑتے ہو اور وہ اس میں سے کچھ نہیں کھاتا تو پھر اس کو کھا لو، کیونکہ اس نے شکار مالک کے لیے روکا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ان دو احادیث سے معلوم ہوا کہ شکار کو اس وقت کھانا جائز ہو گا، جب شکاری کتا شکار کر کے خود اس میں کچھ نہ کھائے، بلکہ مالک کے لیے روک کر رکھے، نیز ارشادِ باری تعالی ہے: {فَکُلُوْا مِمَّا اَمْسَکْنَ عَلَیْکُمْ} … پس تم کھاؤ اس شکار سے، جو وہ تمہارے لیے روکے رکھیں۔ جب کتا خود کھانا شروع کر دے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ اس نے شکار کو مالک کے لیے نہیں روکا۔