الفتح الربانی
أبواب الوضوء— وضو کے ابواب
الْفَصْلُ الثَّانِي فِي الْوُضُوءِ مِنَ الرِّيحِ باب: ہواخارج ہونے سے وضو کرنا
حدیث نمبر: 758
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّا نَكُونُ بِالْبَادِيَةِ فَتَخْرُجُ مِنْ أَحَدِنَا الرُّوَيْحَةُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ، إِذَا فَعَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَتَوَضَّأْ وَلَا تَأْتُوا النِّسَاءَ فِي أَعْجَازِهِنَّ، وَقَالَ مَرَّةً: فِي أَدْبَارِهِنَّترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی بن طلق ؓ سے مروی ہے کہ ایک بدّو ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم جنگل میں ہوتے ہیں اور کسی کی ہوا نکل جاتی ہے، (ایسے میں کیا کریں)؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ حق کو بیان کرنے سے نہیں شرماتا، جب تم میں کوئی اس طرح کرتا ہے تو وہ وضو کیا کرے اور عورتوں کو پشت سے استعمال نہ کیا کرو۔
وضاحت:
فوائد: … حدیث کے آخری جملے کی وضاحت: معلوم ہوا کہ بیوی کو پشت سے استعمال کرنا یعنی اس سے غیر فطری جماع کرنا حرام ہے، خاوندوں کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے جس عضو کو حق زوجیت کا محل قرار دیا ہے، اسی کو استعمال کریں۔ غیر فطری جماع سے مراد پائخانہ والی جگہ کو استعمال کرنا ہے، اس کا یہ مفہوم نہیں کہ خاوند اپنی بیوی کو الٹا نہیں لٹا سکتا، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {نِسَاؤُکُمْ حَرْثٌ لَّکُمْ فَأْتُوْا حَرْثَکُمْ اَنّٰی شِئْتُمْ} (سورۂ بقرہ: ۲۲۳) یعنی: تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں، اپنی کھتیوں میں جس طرح چاہو آؤ۔ یہودیوں کا خیال تھا کہ اگر عورت کو پیٹ کے بل لٹا کر مباشرت کی جائے تو بچہ بھینگا پیدا ہوتا ہے۔ ان کے خیال کی تردید کی جا رہی ہے کہ چت لٹا کر مباشرت کی جائے یا پیٹ کے بل یا کروٹ پر، اس سے اولاد میں کوئی فرق نہیں پڑتا، ضروری یہ ہے کہ ہر صورت میں عورت کی مباشرت والی جگہ ہی استعمال ہو۔