حدیث نمبر: 7579
عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا بِأَرْضِ أَهْلِ كِتَابٍ أَفَنَأْكُلُ فِي آنِيَتِهِمْ وَإِنَّا فِي أَرْضِ صَيْدٍ أَصِيدُ بِقَوْسِي وَأَصِيدُ بِكَلْبِي الْمُعَلَّمِ وَأَصِيدُ بِكَلْبِي الَّذِي لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ فَأَخْبِرْنِي مَاذَا يَصْلُحُ قَالَ أَمَّا مَا ذَكَرْتَ أَنَّكُمْ بِأَرْضِ أَهْلِ كِتَابٍ تَأْكُلُونَ فِي آنِيَتِهِمْ فَإِنْ وَجَدْتُمْ غَيْرَ آنِيَتِهِمْ فَلَا تَأْكُلُوا فِيهَا وَإِنْ لَمْ تَجِدُوا غَيْرَ آنِيَتِهِمْ فَاغْسِلُوهَا ثُمَّ كُلُوا فِيهَا وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ أَنَّكُمْ بِأَرْضِ صَيْدٍ فَإِنْ صِدْتَ بِقَوْسِكَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ فَكُلْ وَمَا صِدْتَ بِكَلْبِكَ الْمُعَلَّمِ فَاذْكُرْ اسْمَ اللَّهِ ثُمَّ كُلْ وَمَا صِدْتَ بِكَلْبِكَ الَّذِي لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ فَأَدْرَكْتَ ذَكَاتَهُ فَكُلْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا! اے اللہ کے رسول! ہم اہل کتاب کی سر زمین میں رہتے ہیں، کیا ہم ان کے برتنوں میں کھا سکتے ہیں اورہم ایسی سر زمین میں ہیں، جو شکار کے لیے سازگار ہے، میں اپنے کمان یا سدھائے ہوئے کتے کے ذریعہ شکار کرتاہوں اور اپنے اس کتے کے ذریعہ بھی شکار کرتا ہوں جو سدھایا ہوا نہیں، اب آپ ان کے بارے میں فرمائیں۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو تم نے یہ کہا ہے کہ ہم اہل کتاب کی سر زمین میں ہیں اور ان کے برتنوں میں کھانے کا کیا حکم ہے، تو اس بارے میں فتویٰ یہ ے کہ اگر تم ان کے برتنوں کے علاوہ برتن پاؤ تو پھر ان میں نہ کھاؤ، اگر تم ان کے برتنوں کے علاوہ برتن نہیں پاتے ہو تو ان کو دھو لو اور ان میں کھا لو۔جو تم نے یہ کہا ہے کہ تم شکار والی زمین میں ہو، اگر تم نے اپنے تیر کمان سے شکار کرتے وقت بسم اللہ پڑھی تھی تو پھر وہ شکار کھا لو اور جب تم نے سدھائے ہوئے کتے کو شکار پر چھوڑنے سے پہلے بسم اللہ پڑھی تھی تو وہ شکار بھی کھا لو اور جو تم نے نہ سدھائے ہوئے کتے سے شکار کیا ہے، اگر اسے ذبح کر لو تو اس کو بھی کھا لو اور اگر وہ ذبح کرنے سے پہلے مر جائے تو پھر نہ کھانا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيد و الذبائح / حدیث: 7579
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5478، ومسلم: 1930، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17752 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17904»