الفتح الربانی
أبواب الوضوء— وضو کے ابواب
بَابٌ فِي نَقْضِ الْوُضُوءِ بِمَا خَرَجَ مِنَ السَّبِيلَيْنِ. وَفِيهِ فُصُولٌ¤(الْفَصْلُ الْأَوَّلُ فِي الْوُضُوءِ مِنَ الْبَوْلِ وَالْغَائِطِ) باب: (بول و براز کے) راستوں سے خارج ہونے والی ہر چیز سے وضو ٹوٹ جانے کا بیان¤پیشاب اور پائخانہ سے وضو کرنا
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔
عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ قَالَ: أَتَيْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ الْمُرَادِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَسَأَلْتُهُ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ فَقَالَ: كُنَّا نَكُونُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَيَأْمُرُنَا أَنْ لَا نَنْزِعَ خِفَافَنَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ إِلَّا مِنْ جَنَابَةٍ وَلَكِنْ مِنْ غَائِطٍ وَبَوْلٍ وَنَوْمٍ، وَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ جَهْوَرِيُّ الصَّوْتِ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ! الرَّجُلُ يُحِبُّ الْقَوْمَ وَلَمَّا يَلْحَقْ بِهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ))زر بن حبیش کہتے ہیں: میں سیدنا صفوان بن عسال ؓ کے پاس گیا اور موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہوتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں حکم دیتے تھے کہ ہم سفر میں پائخانہ، پیشاب اور نیند کی وجہ سے تین دنوں تک موزوں کو نہ اتارا کریں، البتہ جنابت سے اتارنا پڑیں گے۔ اتنے میں ایک بلند آواز والا بدّو آیا اور اس نے کہا: اے محمد! ایک آدمی ، ایک قوم سے محبت تو رکھتا ہے، لیکن وہ ابھی تک اس کو ملا نہیں ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدمی ان کے ساتھ ہو گا، جن سے وہ محبت رکھتا ہے۔