حدیث نمبر: 75
(وَعَنْهُ أَيْضًا مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) أَنَّ رَجُلًا جَاءَ فَدَخَلَ فِي الْإِسْلَامِ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُهُ الْإِسْلَامَ وَهُوَ فِي مَسِيرِهِ فَدَخَلَ خُفُّ بَعِيرِهِ فِي جُحْرِ يَرْبُوعٍ فَوَقَصَهُ بَعِيرُهُ فَمَاتَ، فَأَتَى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((عَمِلَ قَلِيلًا وَأُجِرَ كَثِيرًا)) قَالَهَا حَمَّادٌ ثَلَاثًا، ((اللَّحْدُ لَنَا وَالشَّقُّ لِغَيْرِنَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

(تیسری سند) ایک آدمی آیا اور اسلام میں داخل ہو گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ایک سفر میں اسے اسلام کی تعلیم دے رہے تھے، اتنے میں اس کے اونٹ کا پاؤں چوہے کے بل میں گھسا، (جس کی وجہ سے اونٹ گر گیا) اور اس نے اس آدمی کی گردن توڑ دی اور وہ فوت ہو گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے اور فرمایا: ”اس نے عمل تو تھوڑا کیا، لیکن اجر بہت زیادہ پایا۔“ تین دفعہ یہ جملہ دوہرایا اور پھر فرمایا: ”لحد ہمارے لیے ہے اور شق دوسرے لوگوں کے لیے ہے۔“

وضاحت:
فوائد: … قبولیت ِ اسلام سے سابقہ تمام گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 75
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن بطرقه ۔ أخرجه الطبراني في الكبير : 2330، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19158 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19371»