الفتح الربانی
أبواب الوضوء— وضو کے ابواب
بَابُ تَوْقِيتِ مُدَّةِ الْمَسْحِ باب: مسح کی مدت مقرر کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 745
عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِالْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ لِلْمُسَافِرِ وَلَيَالِيهِنَّ وَلِلْمُقِيمِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدناعوف بن مالک اشجعی ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ تبوک کے موَقَعَ پر حکم دیا کہ مسافر تین دنوں اور راتوں تک اور مقیم ایک دن اور ایک رات تک موزوں پر مسح کر سکتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ان روایات سے معلوم ہوا کہ مقیم ایک دن یعنی چوبیس گھنٹوں تک اور مسافر تین دنوں تک موزوں پر مسح کر سکتا ہے، مزید وضاحت اگلے باب میں ہو گی۔ ذہن نشین کر لیں کہ مسح کی مدت موزے پہننے سے نہیں، بلکہ اس وقت سے شروع ہو گی، جب سے وضو ٹوٹے گا، اس کی وضاحت یہ ہے کہ ایک آدمی نے ظہر کے وقت وضو کر کے موزے لیے، لیکن عصر کے وقت وضو ٹوٹتا ہے تو مسح کی مدت کا آغاز عصر سے ہو گا۔