الفتح الربانی
أبواب الوضوء— وضو کے ابواب
بَابٌ فِي اشْتِرَاطِ الطَّهَارَةِ قَبْلَ لُبْسِ الْخُفَّيْنِ باب: موزے پہننے سے پہلے باوضو ہونے کی شرط کا بیان
حدیث نمبر: 740
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((وَضِّئْنِي)) فَأَتَيْتُهُ بِوَضُوءٍ فَاسْتَنْجَى ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي التُّرَابِ فَمَسَحَهَا ثُمَّ غَسَلَهَا ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! رِجْلَاكَ لَمْ تَغْسِلْهُمَا، قَالَ: ((إِنِّي أَدْخَلْتُهُمَا وَهُمَا طَاهِرَتَانِ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے وضوء کرواؤ۔ پس میں وضو کا پانی لے کر آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے استنجا کیا، پھر اپنا ہاتھ مٹی میں داخل کیا اور اس کے ساتھ ملا،پھر اس کو دھویا اور وضو کیا، وضو میں موزوں پر مسح کیا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے اپنے پاؤں نہیں دھوئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک جب میں نے موزے پہنے تھے تو پاؤں پاک تھے۔ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت باوضو تھے۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ نمازی جن موزوں پر مسح کرنا چاہتا ہو، اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان کو وضو کی حالت میں پہنے۔