الفتح الربانی
أبواب الوضوء— وضو کے ابواب
بَابٌ مَا جَاءَ فِي مَشْرُوعِيَّةِ ذَلِكَ باب: اس مسح کی مشروعیت کا بیان
حدیث نمبر: 737
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْفَتْحِ فَتْحِ مَكَّةَ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: رَأَيْتُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ! صَنَعْتَ الْيَوْمَ شَيْئًا لَمْ تَكُنْ تَصْنَعُهُ، قَالَ: ((عَمَدًا صَنَعْتُهُ يَا عُمَرُ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا بریدہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ والے دن وضو کیا اور موزوں پر مسح کیا، سیدنا عمر ؓ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے آج ایسا کام کیا ہے، جو پہلے نہیں کرتے تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عمر! میں نے عمداً ایسے کیا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … موزوں پر مسح کرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تواترکے ساتھ ثابت ہے، حدیث نمبر (۶۷۴) کے باب کی احادیث میںموزوں اور جرابوں پر مسح کرنے کی وضاحت کی جا چکی ہے۔