الفتح الربانی
كتاب الإيمان و الإسلام— ایمان اور اسلام کی کتاب
فِي وَفَادَةِ رِجَالٍ مِنَ الْعَرَبِ لَمْ يُسَمَّوا باب: عرب کے ایسے لوگوں کی آمد کا بیان، جن کانام نہیں لیا گیا
عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا بَرَزْنَا مِنَ الْمَدِينَةِ إِذَا رَاكِبٌ يُوضِعُ نَحْوَنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((كَأَنَّ هَذَا الرَّاكِبَ إِيَّاكُمْ يُرِيدُ)) قَالَ: فَانْتَهَى الرَّجُلُ إِلَيْنَا فَسَلَّمَ فَرَدَدْنَا عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مِنْ أَيْنَ أَقْبَلْتَ؟)) قَالَ: مِنْ أَهْلِي وَوَلَدِي وَعَشِيرَتِي، قَالَ: ((فَأَيْنَ تُرِيدُ؟)) قَالَ: أُرِيدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ((فَقَدْ أَصَبْتَهُ)) قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! عَلِّمْنِي مَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ: ((تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ وَتَصُومُ رَمَضَانَ وَتَحُجُّ الْبَيْتَ)) قَالَ: قَدْ أَقْرَرْتُ، قَالَ: ثُمَّ إِنَّ بَعِيرَهُ دَخَلَتْ يَدُهُ فِي شَبْكَةِ جُرْذَانٍ فَهَوَى بَعِيرُهُ وَهَوَى الرَّجُلُ فَوَقَعَ عَلَى هَامَتِهِ فَمَاتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((عَلَيَّ بِالرَّجُلِ)) قَالَ: فَوَثَبَ إِلَيْهِ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ وَحُذَيْفَةُ فَأَقْعَدَاهُ فَقَالَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! قُبِضَ الرَّجُلُ، قَالَ: فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَمَا رَأَيْتُمَا إِعْرَاضِي عَنِ الرَّجُلِ فَإِنِّي رَأَيْتُ مَلَكَيْنِ يَدُسَّانِ فِي فِيهِ مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّةِ فَعَلِمْتُ أَنَّهُ مَاتَ جَائِعًا)) ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((هَذَا وَاللَّهِ مِنَ الَّذِينَ قَالَ لَهُمُ اللَّهُ فِيهِمْ: {الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ أُولَئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ وَهُمْ مُهْتَدُونَ})) ثُمَّ قَالَ: ((دُونَكُمْ أَخَاكُمْ)) قَالَ: فَاحْتَمَلْنَاهُ إِلَى الْمَاءِ فَغَسَّلْنَاهُ وَحَنَّطْنَاهُ وَكَفَّنَّاهُ وَحَمَلْنَاهُ إِلَى الْقَبْرِ، قَالَ: فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى جَلَسَ عَلَى شَفِيرِ الْقَبْرِ، قَالَ: فَقَالَ: ((الْحَدُوا وَلَا تَشُقُّوا، فَإِنَّ اللَّحْدَ لَنَا وَالشَّقَّ لِغَيْرِنَا))سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، جب ہم مدینہ منورہ سے باہر نکل گئے تو ہم نے دیکھا کہ ایک سوار ہماری طرف آنے کے لیے اپنی سواری کو جلدی چلا رہا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس سوار کا ارادہ تم لوگ ہو۔“ جب وہ ہمارے پاس پہنچا تو اس نے سلام کہا اور ہم نے اس کا جواب دیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”تم کہاں سے آ رہے ہو؟“ اس نے کہا: ”جی اپنے اہل و اولاد اور رشتہ داروں کے پاس سے آ رہا ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کہاں جانے کا ارادہ رکھتے ہو؟“ اس نے کہا: ”جی اللہ کے رسول کو ملنا چاہتا ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے اپنے مقصد کو پا لیا ہے۔“ اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! آپ مجھے ایمان کی تعلیم دیں کہ وہ کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو یہ گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کر، زکوٰۃ ادا کر، رمضان کے روزے رکھ اور بیت اللہ کا حج کر۔“ اس نے کہا: ”جی میں اقرار کرتا ہوں۔“ اتنے میں اس کے اونٹ کی اگلی ٹانگ چوہوں کے بلوں میں گھس گئی، جس کی وجہ سے اونٹ گر گیا اور وہ آدمی بھی اپنے سر کے بل گرا اور فوت ہو گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس بندے کو میرے پاس لاؤ۔“ سیدنا عمار اور سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہما جلدی سے گئے، اس آدمی کو بٹھایا اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! بندہ تو فوت ہو گیا ہے،“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اعراض کیا اور پھر فرمایا: ”کیا تم نے دیکھا نہیں کہ میں اس بندے سے اعراض کر رہا تھا، پس بیشک میں نے دیکھا کہ دو فرشتے اس کے منہ میں جنت کے پھل ڈال رہے تھے، اس سے مجھے پتہ چلا کہ بھوکا مرا ہے۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! یہ ان لوگوں میں سے ہے، جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ أُولَٰئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ وَهُمْ مُهْتَدُونَ» (جو لوگ ایمان رکھتے ہیں اور اپنے ایمان کو شرک کے ساتھ مخلوط نہیں کرتے، ایسوں ہی کے لیے امن ہے اور وہی راہِ راست پر چل رہے ہیں۔) (سورہ انعام: ۸۲)“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے اس بھائی کو سنبھال لو۔“ پس ہم اسے اٹھا کر پانی کی طرف لے گئے، اس کو غسل دیا، خوشبو لگائی، کفن دیا اور قبر کی طرف اٹھا کر لے گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور قبر کے کنارے پر بیٹھ گئے اور فرمایا: ”لحد بناؤ، شق نہ بناؤ، کیونکہ لحد ہمارے لیے ہے اور شق دوسرے مذاہب والوں کے لیے ہے۔“