حدیث نمبر: 7278
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي رَافِعِ بْنِ سِنَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ أَسْلَمَ وَأَبَتْ امْرَأَتُهُ أَنْ تُسْلِمَ فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ ابْنَتِي وَهِيَ فَطِيمٌ أَوْ شَبَهُهُ وَقَالَ رَافِعٌ ابْنَتِي فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اقْعُدْ نَاحِيَةً وَقَالَ لَهَا اقْعُدِي نَاحِيَةً فَأَقْعَدَ الصَّبِيَّةَ بَيْنَهُمَا ثُمَّ قَالَ ادْعُوَاهَا فَمَالَتْ إِلَى أُمِّهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ اهْدِهَا فَمَالَتْ إِلَى أَبِيهَا فَأَخَذَهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا رافع بن سنان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے اسلام قبول کر لیا اور اس کی بیوی نے مسلمان ہونے سے انکار کر دیا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی: یہ میری بیٹی ہے، اس کا دودھ چھڑا دیا گیا ہے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رافع سے فرمایا: تم ایک طرف ہو کر بیٹھ جاؤ اور اس کی بیوی سے فرمایا کہ تم دوسری طرف ہو کر بیٹھ جاؤ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بچی کو دونوں کے درمیان بٹھا دیا اور فرمایا: دونوں اس کو بلاؤ، وہ بچی ماں کی جانب مائل ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا کی: اے میرے اللہ! اس بچی کو ہدایت دے۔ پس وہ اپنے باپ کی جانب جھکی اور اس نے اسے پکڑ لیا۔

وضاحت:
فوائد: … ماں کافر تھی، اس کے پاس رہنا بچی کے لیے انتہائی مضر تھا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا فرمائی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان تربية الأطفال / حدیث: 7278
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح، قاله الالباني، أخرجه ابوداود: 2244، وابن ماجه: 2352 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23757 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24158»