الفتح الربانی
بيان تربية الأطفال— بچوں کی پرورش کا بیان
بَابُ الاسْتِهَامِ عَلَى الطِّفْلِ وَتَخْيِيْرِهِ إِذَا كَانَ مميزا عِنْدَ تَنَازُعَ أَبَوَيْهِ عَلَى حَضَانَتِهِ باب: پرورش میں والدین کے تنازعہ اور اختلاف کے وقت بچے کے سلسلے میں قرعہ اندازی کرنے اور سن تمیز تک پہنچنے کی صورت میں اس کا اختیار دینے کا بیان
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي رَافِعِ بْنِ سِنَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ أَسْلَمَ وَأَبَتْ امْرَأَتُهُ أَنْ تُسْلِمَ فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ ابْنَتِي وَهِيَ فَطِيمٌ أَوْ شَبَهُهُ وَقَالَ رَافِعٌ ابْنَتِي فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اقْعُدْ نَاحِيَةً وَقَالَ لَهَا اقْعُدِي نَاحِيَةً فَأَقْعَدَ الصَّبِيَّةَ بَيْنَهُمَا ثُمَّ قَالَ ادْعُوَاهَا فَمَالَتْ إِلَى أُمِّهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ اهْدِهَا فَمَالَتْ إِلَى أَبِيهَا فَأَخَذَهَا۔ سیدنا رافع بن سنان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے اسلام قبول کر لیا اور اس کی بیوی نے مسلمان ہونے سے انکار کر دیا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی: یہ میری بیٹی ہے، اس کا دودھ چھڑا دیا گیا ہے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رافع سے فرمایا: تم ایک طرف ہو کر بیٹھ جاؤ اور اس کی بیوی سے فرمایا کہ تم دوسری طرف ہو کر بیٹھ جاؤ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بچی کو دونوں کے درمیان بٹھا دیا اور فرمایا: دونوں اس کو بلاؤ، وہ بچی ماں کی جانب مائل ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا کی: اے میرے اللہ! اس بچی کو ہدایت دے۔ پس وہ اپنے باپ کی جانب جھکی اور اس نے اسے پکڑ لیا۔